ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / گڑگاؤں میں مسلم خاندان کی پٹائی: سوشل میڈیا پر پھوٹا غصہ

گڑگاؤں میں مسلم خاندان کی پٹائی: سوشل میڈیا پر پھوٹا غصہ

Sat, 23 Mar 2019 23:41:41    S.O. News Service

نئی دہلی ، 23 مارچ(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)گروگرام کے بھوپ نگر علاقے میں ہولی کے دن ایک مسلم خاندان کی بدمعاشوں کی طرف سے پٹائی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔سوشل میڈیا پر اس واقعہ کے خلاف لوگوں کا جم کرغصہ پھوٹا ہے۔

اس معاملے میں ہریانہ پولیس نے ایک ملزم کو حراست میں لیا ہے اور پوچھ گچھ کر رہی ہے۔حراست میں لئے گئے ملزم کا نام مکیش شرما بتایا جا رہا ہے،متاثرہ خاندان کے الزامات پر ہریانہ پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی جانچ کی جا رہی ہے۔متاثرہ خاندان نے پولیس پر بھی لاپرواہی برتنے کا الزام لگایا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے کئی بار پولیس ہیلپ لائن نمبر پر کال کیا لیکن پولیس نہیں آئی،متاثرہ خاندان نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ حملہ کرنے والے لوگ گھر سے 25000 روپے بھی لوٹ لے گئے۔متاثرہ خاندان کی ایک خاتون سمائرہ کا کہنا ہے کہ حملہ اس وقت ہوا ہے جب خواتین مہمانوں کے لئے کھانا بنا رہی تھیں،تبھی اچانک سے کچھ لوگ گھر میں داخل ہو گئے،جب میں نے ان کو روکنے کی کوشش کی تو انہوں نے مجھے ڈنڈوں سے پیٹا،میں نے ان سے پوچھا کہ کیا ہوا ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ آج ملوں کو چھوڑنا نہیں ہے،وہ سیڑھیاں پر چڑھ گئے، کھڑکیاں اور دروازے توڑ دیا اور سب کو بری طرح پیٹنے لگے۔

ٹویٹر پر اکھلیش کمار نامی ایک یوزر نے ٹویٹ کیا ہے کہ ویڈیو کی حقیقت جاننا ضروری ہے،پولیس کو بھی جانچ کرکے فوری کارروائی کرنی چاہئے،آخر واقعہ کیا تھا؟ اگر معاملہ ذات کا نہیں ہے تو سوشل میڈیا پر پیش کرنے والے کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہئے۔اس ٹویٹ کے جواب میں منیش سسودیا نے لکھا ہے کہ چوکیدار کی چوکیداری پر سوال اٹھا دیا تو اتنی بوکھلاہٹ؟واقعہ ذات ہو یا کوئی اور وجہ سے اتنی درندگی دیکھ کر بھی انسانیت نہیں جاگی،بلکہ سوال پوچھنے والوں سے ہی سوال۔ '

گروگرام کے اس واقعہ پر دہلی کے وزیر اعلی اروندکجریوال نے مودی حکومت پر حملہ بولا ہے۔کجریوال نے ٹویٹ کر لکھا ہے کہ ہٹلر بھی اقتدار کے لئے یہی کرتا تھا،ہٹلر کے غنڈے لوگوں کو پیٹتے تھے، ان کا خون کرتے تھے اور پولیس جنہیں مارا، انہی کے خلاف کیس کرتی تھی۔مودی جی بھی یہ اقتدار کے لئے کروا رہے ہیں، ہٹلر کے راستے چل رہے ہیں،پر مودی حامیوں کو دکھائی نہیں دیتا کہ ہمارا ہندوستان کدھر جا رہا ہے؟۔ ایک اور ٹویٹ میں اروندکجریوال نے کہا کہ یہ ویڈیو دیکھئے،ہمارے کس گرنتھ میں لکھا ہے کہ مسلمانوں کو مارو،گیتا میں، رامائن میں یا ہنومان چالیسا میں؟ یہ لوگ ہندو نہیں ہیں، ہندوؤں کی شکل میں غنڈے ہیں،ان پارٹی لچے، لفنگے اورغنڈوں کی فوج ہے، ان سے ملک اور ہندو مذہب دونوں کو بچانا ہر ہندوستانی شہری کا فرض ہے۔

دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے ایک کے بعد ایک کئی ٹویٹ کو ریٹویٹ کیا ہے۔منیش سسودیا نے اپنے ٹویٹس میں لکھا ہے کہ اب چوکیدار کے کہنے پر پولیس اس آدمی کو پکڑ کر تھانے میں بند کرے گی جس نے اس واقعہ کا ویڈیوریکارڈکیا، لہذا اروند کجریوال کہہ رہے ہیں کہ اگر یہ چوکیدار دوبارہ جیت گیا تو ہر گھر میں یہی حال ہوگا۔

دراصل گرگرام کے بھوڈسي کے بھوپ نگر علاقے میں ہولی کے دن شام ساڑھے 5 بجے کے قریب دو فریق میں تنازعہ ہوا جس کے بعد پتھر بازی شروع ہو گئی،ویڈیو میں صاف ظاہر ہے کہ ایک طرف لاٹھی ڈنڈوں کے ساتھ گھر میں گھس گیا اور گھر والوں کو پیٹنا شروع کر دیا،ویڈیو میں گھر کی خواتین جان بچا کر چھت پر بھاگتی نظر آ رہی ہیں،کچھ خواتین نے چھت کا دروازہ بند کر خود کو بچایا لیکن اس دوران نیچے کی منزل پر خاندان کے کچھ اراکین کو دبنگ وحشیانہ طورپر پیٹتے نظر آئے۔ویڈیو میں ایک بزرگ خاتون خاندان والوں کو بچانے کی کوشش کرتی نظر آ رہی ہے۔موقع پر 30 سے 35 دبنگ مسلم خاندان کو پیٹتے نظر آ رہے ہیں۔پولیس نے دفعہ 307، 452، 427، 506 کے تحت بہت سے نوجوانوں کے خلاف مقدمہ درج کر کے معاملے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔

پولیس نے بتایا کہ کرکٹ کھیلنے کو لے کر ہوا معمولی تنازعہ ہوا تھا۔اس معاملے میں 7 سے 8 نامعلوم افراد کے خلاف شکایت دی گئی تھی۔پولیس نے بتایا کہ گرفتار نوجوان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے اسی کی بنیاد پر بھی دیگر ملزمان کی گرفتاری ہوگی۔پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار نوجوان نے واردات میں شامل دوسرے ملزمان کے نام بتائے ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی ہے، لیکن اگر اس سلسلے میں کسی طرح کی لاپرواہی پائی جاتی ہے تو ایکشن لیا جائے گا۔پولیس نے بتایا کہ واقعہ کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے علاقے میں پولیس تعینات کر دیا گیا ہے۔


Share: